اقسام حیوانات
فهرست موضوعات
جستجو 
ماھرین علم نے حیوانوں کی بہت سی قسمیں بیان کی ھیں، اور ان حیوانوں کے رہنے کی جگہ بھی مختلف ھے مثلاً: خشکی، دریا جن میں مختلف حیوانات رہتے ھیں اور ان حیوانات کے مختلف طریقوں کے ساتھ ایک بہت بڑا اختلاف نظر آتا ھے کیونکہ ھر حیوان اپنی زندگی کے لئے ایک مخصوص گھر بناتا ھے او ران کی غذا بھی مختلف هوتی ھے۔
یہ منھ ھاضمہ کے لئے سب سے پھلا مرحلہ ھے اور اس کے لئے ایک عظیم فکر کی گئی ھے جو فکر وتصمیم گیری کرنے والے اور ان چیزوں کے خلق کرنے والے کی عظمت پر دلالت کرتی ھے۔
ان حیوانات میں کچھ ایسے ھیں جو صحرائی اور جنگلی هوتے ھیں جیسے شیر اور بھیڑئے ، ان کے لئے وھاں کوئی غذا نھیں هوتی مگر جس کا وہ شکار کرلیں چنانچہ ان کے لئے تیز اور سخت دانت اور بہت طاقتور ھاتھ اورپیروں کی ضرورت هوتی ھے تاکہ یہ شکار کرسکیں ،اسی طرح ان کے لئے پنجوںمیں طاقتور ناخن اور قوی ھاضمہ کا هونا ضروری ھے تاکہ گوشت اور اپنے سخت کھانے کو ہضم کرسکےں۔
اور کچھ حیوانات ایسے ھیں جو چراگاہ میں زندگی گذارتے ھیں جن سے انسان خدمت لیتا ھے انسان ان کے قوام کے لئے نباتات اور چھوٹے چھوٹے درختوں اور گھاس وغیرہ کے ذریعہ غذا فراھم کرتا ھے، چنانچہ ان کے ھاضمہ کاسسٹم ان کے جسم کے لحاظ سے بنایا گیا ھے ،اسی وجہ سے ان کے منھ نسبتاً بڑے هوتے ھیں، لیکن ان کا منھ کچھ مخصوص دانتوں سے خالی هوتا ھے، جن کے بدلے ان کو اللہ نے ایسے دانت دئے ھیں جن کے ذریعہ مختلف درختوں اور گھاس وغیرہ کو بہت جلد کھا جاتے ھیں، اور اس کو ایک دفعہ میں نگل جاتے ھےں لیکن اس کے ہضم کے لئے عجیب مشین موجود ھے ،وہ جو کچھ بھی کھاتے ھےں وہ معدہ میں جاتا ھے جو کھانے کا مخزن ھے اور جب حیوان کھانا کھالیتا ھے اور آرام کے لئے بیٹھتا ھے تو پھر یہ کھانا معدہ سے ایک دوسرے” تجویف“نامی جگہ کی طرف چلا جاتا ھے اور پھراس معدہ کے منھ تک آتا ھے تاکہ ا سکو اچھی طرح کوٹ لے اس کے بعد پھر ایک دوسری تجویف میں چلا جاتا ھے اور پھر چوتھی بار بھی اسی طرح هوتا ھے کیونکہ یہ تمام فعالیت حیوان کے لئے فائدہ مند هوتی ھے۔
چنانچہ آج کے سائنس کا کہنا ھے کہ حیوان کے جسم کے لئے جگالی کرنا نھایت ضروری اور حیاتی ھے کیونکہ گھاس کا ہضم هونا ایک مشکل کام ھے کیونکہ اس میں ایسے اجزاء اور سلیلوز هوتے ھیں جن پر سبزی کے خلیے کے غلاف هوتے ھیںجن کو ہضم کرنے کے لئے حیوان کو کافی وقت کی ضرورت هوتی ھے اور اب اگر یہ حیوان جگالی نہ کرے اور اس کے لئے حیوان کے پاس مخزن نہ هو تو اس صورت میں حیوان کا چارہ چرنے میں کافی وقت ضایع هوگا یھاں تک وہ صبح سے شام تک بھی چرتا رھے گا تب بھی پیٹ نہ بھرے گالہٰذا حیوان کی غذا ہضم هونے کے لئے ضروری ھے کہ اس کے پاس ایک ایسا مخزن هو جس میں وہ اپنی غذا کو جگالی کے ذریعہ تحلیل کرے تاکہ بدہضمی کا شکار نہ هو اور یہ غذا اس کے لئے سود مند ثابت رھے۔
لیکن پرندوں کے ھاضمہ کا سسٹم مذکورہ حیوانوں سے بالکل الگ هوتاھے کیونکہ ھر پرندہ کی صرف ایک چونچ هوتی ھے جس میں ہڈی نما دانت بھی هوتے اوران کے نہ منھ هوتا ھے اورنہ هونٹ هوتے ھیں چنانچہ پرندہ غذا کو بغیر چبائے کھاتا ھے۔
ان پرندوں کی غذا کی طرح ان کی چونچ بھی الگ الگ طرح کی هوتی ھیں ان میں جو شکاری پرندے هوتے ھیں ان کی چونچ قوی اور لمبی هوتی ھے تاکہ گوشت کو خوب کوٹ لیں اور ”بطخ“ اور” ہنس“ کی چوڑی چونچ هوتی ھیں تاکہ وہ اپنی غذا مٹی اور پانی دونوں سے تلاش کرسکیں اور چونچ کے اطراف میں چھوٹی چھوٹی کچھ اضافی چیز بھی هوتی ھے (جس طرح چھوٹے چھوٹے دانت) جو ان کی غذا کے کاٹنے میں مدد کرتی ھیں لیکن چڑیا ،کبوتر اور دوسرے پرندوں کی چونچ چھوٹی هوتی ھیں تاکہ وہ اپنے ہدف تک پهونچ سکیں۔
ان کے علاوہ بھی ھم اس مخلوقات کی عظیم او رمنظم چیزوں کا مشاہدہ کرتے ھیں مثلاً حیوانات کے پیر، جن کی وجہ سے حیوان چلتا پھرتا، دوڑتااور بوجھ اٹھاتا ھے، کیونکہ یھی پیر حیوان کو تیز دوڑنے کی صلاحیت عطا کرتے ھیں اورحیوان کے ھر پیر میںکُھر هوتے ھیں جو دوڑتے وقت احتمالی ضرر سے محفوظ رکھتے ھیں۔
لیکن گائے اور بھینس کے پیر چھوٹے اور مضبوط هوتے ھیںجن میں کھُر هوتے ھیں جو زراعتی اور نرم زمین پر چلنے میں مدد کرتے ھیں، اسی طرح اونٹ کے پیر اس قسم کے هوتے ھیں جو اس کو ریت پر چلنے میں مدد کرتے ھیں اسی طرح اس کے پیروں پر موٹی اورسخت کھال هوتی ھے جو اس کو کنکریوں اور ریت پر بیٹھنے میں مدد کرتی ھے۔
اسی طرح پرندوں کے پیر بھی ان کی طبیعت کے لحاظ سے مختلف هوتے ھیں چنانچہ ان میں سے بعض گوشت خوار هوتے ھیں اور ان کے پنچے سخت او رمضبوط هوتے ھیں تاکہ وہ شکار کرنے میں ان کی مدد کریں جیسے باز اور گدھ،لیکن وہ پرندے جو اناج اور دیگر دانے وغیرہ کھاتے ھیں جیسے مرغ اور کبوتر ان کے پنچوں میں ا یسے ناخن هوتے ھیں جن سے صرف زمین کھود سکتے ھیں (تاکہ اس میں چھپے دانوں کو نکال سکےں)، لیکن وہ حیوانات جو اپنی غذا پانی میں تلاش کرنے پر مجبور ھیں ان کی انگلیوں کے درمیان ایک پردہ هوتا ھے جس کی وجہ سے وہ پانی میں تیر کر اپنی غذا تلاش کرتے ھیں۔
اسی طرح انھی عجیب وغریب خلقت میں سے مینڈھک کی خلقت بھی ھے ، کیونکہ اس کی زبان دوسرے زندہ موجودات سے لمبی هوتی ھے اور اس کی لمبائی اس کے قدکے نصف هوتی ھے اور اس میں چپک هوتی ھے جس سے وہ مکھیوں کا آسانی سے شکار کرتا ھے، کیونکہ مینڈھک بالکل کوئی حرکت نھیں کرتا مگر یہ کہ مکھی اس کے قریب هوجائے اور جب زبان باھر نکالتا ھے تو اپنے سامنے موجود مکھیوں کا شکار کرلیتا ھے۔
اور واقعاً مینڈھک میں یہ بات کتنی عجیب ھے کہ اگر اس میں وہ گردن نہ هوتی جس سے وہ اپنے سر کو حرکت دے کر اپنے اطراف میں دیکھتا ھے تو پھر اس کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جاتیں جو چاروں جانب (گردن کے حرکت کرنے کی بنا پر) حرکت کرتی ھیں۔
قارئین کرام ! آج کے سائنس نے یہ بات کشف کی ھے کہ اکثر پستاندار "Mammals"حیوانات میں” قوہٴ شامہ“ (سونگھنے کی قوت)قوی هوتی ھے برخلاف قوت باصرہ کے، جبکہ پرندوں میں دیکھنے کی قوت زیادہ تیز اور قوی هوتی ھے اور اس کا راز یہ ھے کہ حیوانات کی غذا معمولاً زمین پر هوتی ھے اور وہ اس کو سونگھ کر حاصل کرسکتے ھیں لیکن پرندے معمولاً آسمان میں پرواز کرتے ھیں لہٰذا ان کو اپنی غذا کی تلاش میں تیز آنکھوں کی ضرورت هوتی ھے، تاکہ وہ دور سے اپنی غذا کو دیکھ سکیں۔
لیکن ”مُحّار“(ایک دریائی حیوان) جس کی آنکھیں ھماری طرح هوتی ھیں البتہ ھماری صرف دو آنکھیں هوتی ھیں لیکن اس کی کئی عدد هوتی ھیں اور ان میں لاتعداد چھوٹی چھوتی پتلیاں هوتی ھیں جن کا احصاء ممکن نھیں ، اور کھا یہ جاتا ھے کہ ان کی مدد سے داہنے سے اوپر کی طر ف دیکھ سکتی ھیں، اور چھوٹی چھوٹی پتلیاں انسانی آنکھوں میں نھیں پائی جاتیں، تو کیا یہ پتلیاں اس محار میں اس وجہ سے هوتی ھیں کہ اس میں انسان کی طرح سوچنے کی صلاحیت نھیں هوتی؟ اسی طرح کھا یہ جاتا ھے کہ بعض حیوانوں میں دو آنکھیں اور بعض میں ہزار آنکھیں هوتی ھیں جو سب کی سب الگ هوتی ھیں تو کیا طبیعت علم مرئیات میں اتنے عظیم مرتبہ پر فائز ھے۔؟! یعنی کیا یہ تمام کی تمام دقیق اور حساب شدہ چیزیں بغیر کسی خالق کے وجود میں آسکتی ھیں؟!!
اسی طرح مچھلی میں عجیب وغریب حس پائی جاتی ھے جس کی بنا پر دریاؤں کے پتھروں اور دوسری چیزوں سے نھیں ٹکراتی ، چنانچہ بعض ماھرین نے اس سلسلہ میں غور وخوض کرکے یہ نتیجہ پیش کیا ھے کہ مچھلی کے دونوں طرف ایک طولانی خط (لکیر) هوتا ھے ، جبکہ یہ خط اتنا باریک هوتا ھے کہ صرف دوربین ھی کے ذریعہ دیکھا جاسکتا ھے اور اس میں قوت حس کے بہت سے اعضاء هوتے ھیں چنانچہ مچھلی انھیں کے ذریعہ پتھر یا کسی دوسری چیز کا احساس کرلیتی ھے جب پانی پتھروں اور دوسری چیزوں سے ٹکراتا ھے اور یہ پتھر وغیرہ کو دیکھ کر اپنا راستہ بدل دیتی ھے۔
اسی طرح چمگادڑکی خلقت بھی کتنی عجیب وغریب ھے جیسا کہ ماھرین نے اس پر توجہ دلائی ھے، یہ چمگادڑ رات میں اڑتا ھے لیکن اپنے راستہ میں کسی مکان ، درخت یا کسی دوسری چیز سے نھیں ٹکراتا،چنانچہ اٹلی کے ایک ماھراور سائنسداں نے اس کی قدرت کے سلسلہ میں تحقیق کی، اس نے ایک کمرے میں کچھ رسیاں باندھیں، ھر رسی میں ایک چھوٹی گھنٹی باندھی کہ اگر رسی سے کوئی بھی چیز ٹکرائے تو وہ گھنٹی بجنے لگے ، اس کے بعد اس نے کمرے کو بالکل بند کردیا اور اس میں چمگادڑ کو چھوڑ دیا چنانچہ چمگادڑ اس کمرے میں اڑنے لگا لیکن کسی بھی گھنٹی کی کوئی آواز سنائی نہ دی، یعنی وہ کسی بھی رسی سے نھیں ٹکرایا ، اس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ چمگادڑ میں ایسی طاقت هوتی ھے کہ جب وہ اڑتاھے تو اس کے اندر سے ایک ایسی آواز نکلتی ھے جو کسی بھی چیز سے ٹکراکر واپس آتی ھے اور اسی واپس آئی آواز کے ذریعہ وہ اس چیز کا احساس کرلیتا ھے ، پس ثابت یہ هوا کہ اس کے احساس کا طریقہ بالکل ”راڈار“ کی طرح ھے۔
اسی طرح اونٹ کی خلقت بھی بڑی عجیب ھے،چنانچہ اس کو خدا کی عظیم نشانیوں میں شمار کیا جاتا ھے جیسا کہ خداوندعالم نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا:
<اٴفَلاٰ یَنْظُرُوْنَ اِلَی الْاِبِلِ کَیْفَ خُلِقَتْ>[1]
”تو کیا یہ لوگ اونٹ کی طرف غور نھیں کرتے کہ کیسا (عجیب) پیدا کیا گیا ھے“
چونکہ اونٹ کی زندگی زیادہ تر جنگل اور ریگستان میں بسر هوتی ھے چنانچہ خداوندعالم نے اس کو ایسا خلق کیا ھے جس سے وہ ایک طولانی مدت تک بغیر کچھ کھائے پئے رہ سکے، اور اپنی بھوک وپیاس پر کافی کنٹرول رکھ سکے۔
اسی طرح اونٹ کی لمبی اور گھنی پلکیں هوتی ھیں جن کی بنا پر شدید طوفان او رآندھی میں بھی اپنی آنکھیں کھولے رکھتا ھے اور اس کی آنکھیں محفوظ رہتی ھیں ، اور جس طرح ھم آندھی کے وقت اپنی آنکھوں کے بند کرنے پر مجبور هوتے ھیں وہ اپنی آنکھوں کو بند کرنے پر مجبور نھیں هوتا۔
اسی طرح اس کے پاؤں اس طرح نرم هوتے ھیں جن سے وہ ریت پر آسانی سے چل سکتا ھے اور اس کے پیر ریت اور ریگستان میں نھیں دھنستے، اور اس کی ناک بھی آندھی کے وقت کھلی رہتی ھے لیکن پھر بھی اس میں کوئی گرد وغبار نھیں جاتا، اور اس کا اوپر والا هونٹ نکلا هوا هوتا ھے تاکہ اس کے ذریعہ کانٹوں والی گھاس وغیرہ کا آسانی سے پتہ لگاسکے۔
اسی طرح چیونٹی کی خلقت بھی کتنی عجیب ھے چنانچہ چیونٹی میں بہت سی خدا کی نشانیاں بتائی جاتی ھیں، کیونکہ اس میں فھم وادراک، صبراور احساس اس قدر هوتا ھے کہ کوئی شخص اس کے چھوٹے سے جسم اور حجم کو دیکھنے کے بعد نھیں سمجھ سکتا، اور شاید آج کی بہت سی جدید چیزیں اسی میں غور وفکر کرنے سے وجود میں آئی ھیں کیونکہ اس کی خلقت میں بہت ھی دقت اور نظم وترتیب کا لحاظ رکھاگیا ھے۔
چنانچہ بعض چیونٹی سردی کے زمانہ میں دوسری ان چیونٹیوں کے لئے کھانے دانے کا انتظام کرتی ھیں جو باھر نھیں نکل سکتیں، اسی طرح ان میں سے بعض وہ هوتی ھیں جو دانوں کاآٹا بناتی ھیںاور وہ ھمہ وقت اسی کام میں مشغول رہتی ھےں۔
اور بعض چیونٹیاں ایسی هوتی ھیں جن کی فطرت میں کھانا کھانے کا مخصوص گھر بنانے کا میلان هوتا ھے ، جن کو کھانے کا باغیچہ کھا جاسکتا ھے اور وھاں پر مختلف کیڑے مکوڑوں کا شکار کرکے لاتی ھیںاور وھاں پر آرام سے بیٹھ کر کھاتی ھیںان میں سے بعض ان شکار شدہ کیڑے مکوڑوں کے اندر سے ایک طریقہ کا رس نکالتی ھیں جو شہد کے مشابہ هوتا ھے تاکہ اس کا کھاتے وقت مزہ لیں۔
اسی طرح ان میں سے بعض وہ بھی هوتی ھیں جو اپنے گروہ کوایک جگہ سے دوسری جگہ لے جاتی ھیں اور ان میں محافظ کا کام کرتی ھیں ، نیز بعض چیونٹیاں اپنے لئے گھر بنانے کی ذمہ داری نبھاتی ھیں جبکہ دوسری چیونٹیاں اس طرح کے پتّے کاٹتی ھیں جو ان کے اندازہ کے مطابق هوتے ھیں،اور ان میں سے بعض اپنے گھر کے اردگرد پھرہ داری کرتی ھیں۔
قارئین کرام ! ان تمام تفصیلات کے پیش نظر کیا مادہ کے لئے یہ ممکن ھے کہ وہ اتنی دقیق چیزوں کو پیدا کرے جن میں ایک چیونٹی بھی ھے جو اتنے دقیق حساب وکتاب سے رہتی ھے؟
پس ان تمام چیزوں کے پیش نظر حیوانات قابل توجہ ھیں چنانچہ قرآن مجید نے اس بارے میں پھلے ھی بیان کردیا ھے، جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ هوتا ھے:
< حَتَّی إِذَا اٴَتَوْا عَلَی وَادِی النَّمْلِ قَالَتْ نَمْلَةٌ یَااٴَیُّہَا النَّمْلُ ادْخُلُوا مَسَاکِنَکُمْ لاَیَحْطِمَنَّکُمْ سُلَیْمَانُ وَجُنُودُہُ وَہُمْ لاَیَشْعُرُونَ >[2]
”یھاں تک کہ جب (ایک دن) چیونٹیوںکے میدان میں آنکلے توایک چیونٹی بولی اے چیونٹیو ! اپنے اپنے بلوں میں گھس جاؤ ایسا نہ هو کہ سلیمان اور ان کا لشکر تمھیں روند ڈالے اور انھیں خبر بھی نہ هو۔“
اس کے صدیوں بعد کھیں علم نے ان حقائق اور معلومات کو ثابت کیا ھے۔
قارئین کرام ! مذکورہ حیوانات کے علاوہ اور بھی بہت سی مختلف قسم کے حیوانات اور جانور هوتے ھیں،مثلاً یھی مرغ جس سے ھم زیادہ سروکار رکھتے ھیں ان کی آواز بھی مختلف هوتی ھے چنانچہ جب مرغی چھوٹے بچوں کو دانے ملنے کی بعد آواز لگاتی ھے تو اس کی آواز اور هوتی ھے اسی طرح جب ان کو اپنے گھر کی طرف بلاتی ھے تو اس کی آواز کچھ اور هوتی ھے۔
اسی طرح شہد کی مکھی جب کھیں پھولوں والی زمین میں جاتی ھے تو اپنے ایک خاص انداز میں گھومتی ھے جیسے انگریزی میں "8"کا هوتا ھے اور پھول میں شہد هوتا ھے تو اس کو حاصل کرلیتی ھے۔
چنانچہ ایک ماھر دانشور جس نے چیونٹی کے متعلق تحقیق کی ھے وہ کہتا ھے کہ میں نے ایک چیونٹی کو اپنے بل سے دور دیکھا جس نے اپنے ڈنک سے ایک مکھی کاشکار کیا اور اس کو تھوڑی دیر کے لئے وھیں پر ڈال دیا تقریباً بیس منٹ بعد جب اس کومکھی کے مرنے کا یقین هوگیا تو اس کو اٹھاکر اپنے بل کی طرف چلنا شروع کیا ، لیکن جب اس میں لے جانے کی طاقت نہ رھی تو اس نے تنھا جاکراپنے ساتھیوں کو باخبر کیا تو ان چیونٹیوں کا ایک گروہ اس کے ساتھ نکلا یھاں تک کہ سب نے مل کر اس کے ٹکڑے ٹکڑے کرڈالے اور پھر سبھوں نے اس کے مختلف اجزاء کو اٹھایا،اور اپنے بل میں لے گئیں، اب یھاں سوال یہ پیدا هوتا ھے کہ جب وہ پھلی چیونٹی ،تنھا بغیر کچھ لئے اپنے بل میں گئی تو اس کے ساتھ کوئی ایسی چیز نہ تھی جس کو دیکھ کر دوسری چیونٹیوں کو اس شکار کے بارے میںمعلوم هوتا تو پھر اس چیونٹی نے دوسری چیونٹیوں کو کس زبان میں باخبر کیا کہ میںنے ایک بہترین شکار کیا ھے آؤ مدد کرو تاکہ اس کو اپنے بل میں لے آئیں۔(پس معلوم هوا کہ ان کی بھی ایک خاص زبان ھے جس سے وہ سمجھتی اور سمجھاتی ھیں)۔
اسی طرح آپ ھاتھی کی خلقت پر غور کریں تو اس میں بھی عجیب وغریب قدرت کے آثار ملاحظہ کریں گے مثلاًھاتھیوں کا جھنڈ جب ایک ساتھ چلتا ھے تو ان کے درمیان سے مسلسل ھمھمہ کی آواز آتی رہتی ھے لیکن جب یھی ھاتھی اپنے گروہ سے جدا هوکر الگ الگ چلتے ھیں توان کی وہ آواز ختم هوجاتی ھے، آخر ایسا کیوں ھے؟!۔
اسی طرح جناب کوے کی آواز کس قدر مختلف اور بامفهوم هوتی ھے چنانچہ وہ خطرہ کے وقت رونے جیسی آواز نکالتا ھے تاکہ اس کے دوسرے ساتھی خطر ہ سے مطلع هوجائیں ، اور یھی کوا جب کوئی خوشی کامقام دیکھتا ھے تو ایسی آواز نکالتا ھے جو قہقہہ اور ہنسی سے مشابہت رکھتی ھے۔
قارئین کرام ! حیوانات میں کوئی ایسی زبان نھیں ھے جس کو سب سمجھتے هوں ، بلکہ ان میں سے ھر صنف کی الگ الگ زبان هوتی ھے، مثلاً آپ مکڑی کو دیکھیں ، یہ جب جالا بناتی ھے تو اس جالے کے تار ان کے درمیان گفتگو کاوسیلہ بنتے ھےں، چنانچہ کھا جاتا ھے کہ جب جالے کے ایک طرف مذکر اور دوسری طرف مونث هو تو اسی جالے کے تارکے ذریعہ ان کے درمیان تبادلہ خیالات هوتا ھے،اور اس کی مادہ اپنے شوھر کے استقبال کے لئے اسی جالے کے تار کے ذریعہ رابطہ قائم کرتی ھے، جس طرح آج کل فون کے ذریعہ گفتگو کی جاتی ھے۔
اور جب ھم مرغی کو دیکھتے ھیں تو اس کے اندر الٰھی شاہکار کی بہت سی عحیب وغریب نشانیاں پاتے ھیں، چنانچہ ھمارے لئے درج ذیل حقائق پر نظرکرکے خالق خائنات کی معرفت حاصل کرنا ھی کافی ھے:
ایک امریکی ماھر نے مرغی کے انڈے سے بغیر مرغی کے بچہ نکالنا چاھا ،چنانچہ اس نے انڈے کو ایک مناسب حرارت (گرمی) میں رکھا ، جس مقدار میں مرغی انڈے کو حرارت پهونچاتی ھے ، لہٰذا اس نے چند عدد انڈوں کو جمع کرکے ایک مشین میں رکھا ،وھاں موجود ایک کاشتکار نے اس کو بتایا کہ انڈوں کو الٹتا پلٹتا رھے، کیونکہ اس نے مرغی کو دیکھا ھے کہ وہ انڈوں کو الٹتی پلٹتی رہتی ھے، لیکن اس ماھر نے اس کاشتکار کا مذاق اڑاتے هوئے کھا کہ مرغی اس لئے انڈے کو بدلتی ھے تاکہ اپنے جسم کی گرمی انڈے تک پهونچاتی رھے،الغرض اس نے انڈوں کو چاروں طرف سے حرارت پهونچانے والی مشین میں رکھا لیکن جب انڈوں سے بچے نکلنے کا وقت آیا تو کوئی بھی انڈا نہ پھٹا تاکہ اس سے بچہ نکلتا، (وہ حیران هوگیا) اور دوبارہ اس نے کاشتکار کے کہنے کے مطابق انڈوں کو مشین میں رکھ کر بچے نکلنے کی مدت تک ان کو الٹتا پلٹتا رھا، چنانچہ جب ان کا وقت آیا تو انڈے پھٹ گئے اور ان سے بچے نکل آئے۔
مرغی کے انڈوں سے بچے نکلنے میں الٹ پلٹ کرنے کی ایک دوسری علمی وجہ یہ ھے کہ جب انڈے کے اندربچہ بن جاتا ھے تو اس کی غذائی موادنیچے کے حصہ میں چلی جاتی ھے اب اگر اس کو مرغی نہ گھمائے تو وہ انڈا پھٹ جائے ، یھی وجہ ھے کہ مرغی پھلے اور آخری دن انڈوں کو نھیں پلٹتی کیونکہ اس وقت پلٹنے کی ضرورت نھیں هوتی ، پس کیا یہ تصور کیا جاسکتا ھے کہ ان اسرار کو وہ بغیر کسی الٰھی الھام کے سمجھتی ھے، جس کے سمجھنے سے انسان بھی قاصر ھے؟
چنانچہ یھی الٰھی الھام ھے جس کی بنا پر پانی میں رہنے والے جانور بالخصوص سانپ اپنی جگہ سے ہجرت کرکے دور درازگھرے سمندروں میں جیسے ”جنوبی برمودا “ چلے جاتے ھیں ، پس یہ کتنی عجیب مخلوق ھے کہ جب ان کا رشد ونمو مکمل هوجاتا ھے تو دریاؤں سے ہجرت کرکے مذکورہ سمندروں میں چلے جاتے ھیں ،وھیں انڈے دیتے ھیں اور کچھ مدت کے بعد مرجاتے ھیں لیکن ان کے بچے جو اس جگہ کے علاوہ کسی دوسری جگہ کو نھیں پہنچانتے یہ لوگ اس راستہ کی تلاش میں رہتے ھیںکہ جدھر سے ان کے والدین آئے تھے، اس کے بعد سمندری طوفان اور تھپیڑوں سے مقابلہ کرتے هوئے اپنے آبائی وطن پهونچ جاتے ھیں اور جب ان کا رشد ونمومکمل هوجاتا ھے تو ان کو ایک مخفی الھام هوتا ھے کہ وہ جھاں پیدا هوئے تھے وھی جائیں ، لہٰذا ان چیزوں کو ملاحظہ کرنے کے بعد یہ سوال پیدا هوتا ھے کہ ایسی کون سی طاقت ھے جو ان کو اس طرح کا الھام عطا کرتی ھے؟!، چنانچہ یہ کھیں نھیں سنا گیا ھے کہ امریکی سمندروں کے سانپ یورپی سمندر میں شکار کئے گئے هوں، یا اس کے برعکس، اور قابل توجہ بات یہ ھے کہ یورپی سانپوں کا رشد دیگر سانپوںکی بنسبت ایک سال یا اس سے زیادہ کم هوتا ھے، کیونکہ یہ لوگ طولانی مسافت طے کرتے ھیں۔
بھرحال ان تمام چیزوں پر غور کرنے کے بعد سوال یہ پیدا هوتا ھے کہ ان سانپوں کے اندر یہ طاقت اور فکرکھاںسے آئی جس کی بناپر یہ سب اپنی سمت، سمندر کی گھرائی وغیرہ کو معین کرتے ھیں،لہٰذا کیا یہ تصور کیا جاسکتا ھے کہ یہ سب ”بے جان مادہ“کی مخلوق ھیں؟!!
اسی طرح الٰھی الھام کی وجہ سے مختلف پرندے جب بڑے هوجاتے ھیں تو اپنے والدین کی طرح اپنے لئے الگ آشیانہ بناتے ھیں اور وہ بھی بالکل اسی طرح جس میں وہ رہتے چلے آئے ھیں، یعنی ان کے گھونسلوں میں کوئی فرق نھیں پایا جاتا۔
یھی الٰھی الھام ھے کہ جس کی بنا پر بعض حیوانات کے اجزاء کٹنے یا جلنے کے بعد دوبارہ اسی طرح سے بن جاتے ھیں، مثلاًجب سمندری سرطان (کیکڑا) اپنے جسم کے پنجوں کو ضائع کربیٹھتا ھے تو جلد ھی ان خلیوں کی تلاش میں لگ جاتا ھے جو اس کے پنجوں کی جگہ کام کریں اور جب خلیے بھی ناکارہ هوجاتے ھیں تووہ سمجھ جاتا ھے کہ اب ھمارے آرام کرنے کا وقت آپہنچاھے، اور یھی حال پانی میں رہنے والے دیگر جانوروں کا بھی ھے۔
اسی طرح ایک دریائی حیوان جس کو ”کثیر الارجل“(بہت سے پیر والا)کہتے ھیں اگر اس کے دوحصہ بھی کردئے جائیں تو اس میں اتنی صلاحیت هوتی ھے کہ اپنے باقی آدھے حصے سے دوسرا حصہ بھی مکمل کرلے۔
اسی طرح ”دودة الطعم“نامی کیڑے کی اگر گردن کاٹ دی جائے تووہ اس سر کے بدلے میں ایک دوسرا سر بنا لیتا ھے، جس طرح جب ھمارے جسم پر کوئی زخم هوجاتا ھے یا گوشت کا ٹکڑا الگ هوجاتا ھے تو وہ آہستہ آہستہ صحیح هوجاتا ھے اور جب یہ زخم بھرتے ھیں تو پتہ چلتا ھے کہ یہ خلیے کس طریقہ سے حرکت کرتے ھیں جن کے نتیجہ میں نیا گوشت، نئی ہڈی اور نئے ناخن یا کوئی دوسرا جز بن جاتا ھے۔
قارئین کرام ! حشرات کی دنیا بھی کیا چیز ھے چنانچہ اس میں غور وفکر کرنے کے بعد انسان کو تعجب هوتاھے، اور شاید ان کی ”شناخت غرائز“ کے بعد ان کی تفصیل ھمارے سامنے مجسم هوجائے۔
کیونکہ ”ابو دقیق “ حشرہ جو کرم کلے (بندگوبھی) میں پایا جاتا ھے اور اس میں انڈے دیتا ھے جبکہ وہ بند گوبھی کو نھیں کھاتا لیکن اس کے اندر ایک ایسا غریزہ هوتا ھے جس کی بناپر اس کا انتخاب کرتا ھے ، چنانچہ جب اس کے انڈوں سے بچے نکلتے ھیں وہ بند گوبھی کو کھاجاتے ھیں ، پس معلوم یہ هوا کہ یہ کیڑاانڈے دینے کے لئے بند گوبھی کا اس لئے انتخاب کرتا ھے تاکہ اس کے بچوں کو مخصوص غذا مل سکے۔
تو کیا یہ ابو دقیق نامی کیڑا اس مسئلہ کو عقلی طور پر سمجھتا ھے؟!
اسی طرح ”زنبور الطین“ (انجن ھاری،جس کو کمھاری بھی کہتے ھیں) جو کیڑے مکوڑوں کا شکار کرتی ھے اور اپنے مٹی کے چھتے میں لے جاتی ھے تاکہ کھانے کے لئے گوشت جمع رھے، اوراس کے بعداس پر ایک انڈا دیتی ھے، اس کو اپنے گھر میں رکھ دیتی ھے ، پھر گارے مٹی کی تلاش میں نکلتی ھے جب اس کو مل جاتی ھے تو اس سے اپنے گھر کا دروازہ بند کردیتی ھے تاکہ جب انڈے پھٹنے کا وقت آئے اور بچے باھر نکلےں تو ان کا کھانے پھلے سے موجود رھے۔
اسی طرح وہ مچھر جو پانی پر اپنے انڈے دیتے ھیںلیکن کبھی بھی اس کے انڈے بچے پانی میں ضایع نھیں هوتے تو کیا یہ مچھر قوانین ”ارشمیڈس“کو جانتا ھے۔
اسی طرح وہ حشرہ جس کو علم حشرات میں ”قاذفة القنابل“ کہتے ھیں جو پھاڑ کھانے والے حیوانات کے آگے آگے بغیر کسی خوف وھراس کے چلتا ھے اور اگرکسی جانور نے اس کو کھانے کے لئے منھ کھولا تو اپنے پیٹ پر موجود ایک تھیلی کو فشار دیتا ھے تاکہ اس سے تین قسم کے غدے نکلےں جس میں ”ھیڈروکینون“ ، ”فوق اکسیڈھیڈ روجین“ اور ”ازیم خاص“ اور جب یہ تینوں چیزیں مخلوط هوتی ھیں تو ان میں سے ایک قسم کا گیس نکلتا ھے جس کی وجہ سے وہ درندہ حیوان بھی ڈر کی وجہ سے بھاگنے لگتا ھے ، تو کیا اس حشرہ اور کیڑے نے علم کیمسٹری میں کامبرج یونیورسٹی سے ڈیپلم"Diploma" کیا ھے؟!!
اسی طرح ابریشم کے کیڑے ، جو نھایت ھی باریک جال بناتے ھیں۔اور اسی طرح وہ جگنو جو رات میں روشنی پھیلاتا پھرتا ھے تاکہ روشنی پر آنے والے چھوٹے چھوٹے کیڑوں کا شکار کرسکے۔
نیز اسی طرح پانی کے کچھ خاص کیڑے جو چند میٹر پانی میں پہنچ جاتے ھیں اور پھر آسمان میں بھی کافی اوپر اڑلیتے ھیں۔
اسی طرح وہ تتلی جس کے پر بہت ھی نازک اور شفاف هوتے ھیں جب ان پر روشنی پڑتی ھے تو وہ نیلے رنگ کے دکھائی پڑتے ھےں، اور اگر اس میں دسیوں ہزار میں سے ایک جز بھی متغیر هوجائے تو پھر اس کی روشنی میں بھی فرق آجائے گا یا بالکل ختم هوجائے گی۔
قارئین کرام ! یھاں تک ھماری گفتگو کا خلاصہ یہ هوا کہ حیوانات کی دنیا واقعاً عجیب وغریب ھے جن کی خلقت اور نوآوری وغیرہ کو دیکھنے کے بعد(اگرچہ حیوانات کے صفات اس مختصر کتاب میں کماحقہ بیان نھیں کئے جاسکتے) انسان اس نتیجہ پر پهونچتا ھے :
<ِ صُنْعَ اللهِ الَّذِی اٴَتْقَنَ کُلَّ شَیْءٍ إِنَّہُ خَبِیرٌ بِمَا تَفْعَلُون>[3]
”(یہ بھی ) خدا کی کاریگری ھے کہ جس نے ھر چیز کو خوب مضبوط بنایا ھے بے شک جو کچھ تم کرتے هو اس سے وہ خوب واقف ھے۔“
”تعالیٰ الله یقول المنکرون الجاحدون علوا کبیرا“
قارئین کرام ! ھم یھاں پر ان آیات کریمہ کو بیان کرتے ھیں جو خداوند عالم کے وجود پربہترین دلیل ھیں ،جن میں انسان کونباتات،آسمان سے بارش هونے اور زمین وآسمان کے درمیان موجودعجائبات میں غوروفکر کی دعوت دی گئی ھے، کیونکہ ان تمام چیزوں کا اس قدر دقیق اور خصوصیات کے ساتھ پایا جانا اس بات پر دلالت کرتا ھے کہ یہ صفات ان میں خود بخود نھیں پائے جاتے بلکہ ان سب کو مذکورہ صفات عطا کرنے والا خدوندعالم ھے۔
ارشاد خداوندعالم هوتا ھے:
< اٴَفَرَاٴَیْتُمْ مَا تَحْرُثُون۔ اٴَاٴَنْتُمْ تَزْرَعُونَہُ اٴَمْ نَحْنُ الزَّارِعُونَ۔ لَوْ نَشَاءُ لَجَعَلْنَاہُ حُطَامًا۔۔۔>[4]
”بھلا دیکھو تو کہ جو کچھ تم لوگ بوتے هو کیا تم لوگ اسے اگاتے هو یا ھم اگاتے ھیں، اگر ھم چاہتے تو اسے چور چور کردیتے ۔۔۔۔“
< اٴَفَرَاٴَیْتُمْ النَّارَ الَّتِی تُورُونَ ۔ اٴَ اٴَنْتُمْ اٴَنشَاٴْتُمْ شَجَرَتَہَا اٴَمْ نَحْنُ الْمُنشِئُونَ >[5]
”توکیا تم نے آگ پر بھی غور کیا جسے تم لوگ لکڑی سے نکالتے هو کیا اس کے درخت کو تم نے پیدا کیا ھے یا ھم پیدا کرتے ھیں۔“
<وَهو الَّذِی اٴَنزَلَ مِنْ السَّمَاءِ مَاءً فَاٴَخْرَجْنَا بِہِ نَبَاتَ کُلِّ شَیْءٍ فَاٴَخْرَجْنَا مِنْہُ خَضِرًا نُخْرِجُ مِنْہُ حَبًّا مُتَرَاکِبًا وَمِنْ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِہَا قِنْوَانٌ دَانِیَةٌ وَجَنَّاتٍ مِنْ اٴَعْنَابٍ وَالزَّیْتُونَ وَالرُّمَّانَ مُشْتَبِہًا وَغَیْرَ مُتَشَابِہٍ اُنْظُرُوا إِلَی ثَمَرِہِ إِذَا اٴَثْمَرَ وَیَنْعِہِ إِنَّ فِی ذَلِکُمْ لَآیَاتٍ لِقَوْمٍ یُؤْمِنُون>[6]
”اور وہ وھی (قادر وتوانا) ھے جس نے آسمان سے پانی برسایا پھر ھم نے اس کے ذریعہ سے ھر چیز کے کوئے نکالے پھر ھم ھی نے اس سے ھری بھری ٹہنیاں نکالیں کہ اس سے ھم باھم گتھے هوئے دانے نکالتے ھیں اور چوھارے کے درخت سے لٹکے هوئے گچھے (پیدا کئے) اور انگور اور زیتون اور انار کے باغات جو باھم صورت میں ایک دوسرے سے ملتے جلتے ھیں اور (مزے میں) جداجدا ،جب یہ پھلے او رپکے تو اس کے پھل کی طرف غور تو کرو بے شک اس میں ایماندارلوگوں کے لئے بہت سی (خداکی ) نشانیاں پائی جاتی ھیں۔“
< الَّذِی جَعَلَ لَکُمْ الْاٴَرْضَ مَہْدًا وَسَلَکَ لَکُمْ فِیہَا سُبُلاً وَاٴَنزَلَ مِنْ السَّمَاءِ مَاءً فَاٴَخْرَجْنَا بِہِ اٴَزْوَاجًا مِنْ نَبَاتٍ شَتَّی >7]
”وہ وھی ھے جس نے تمھارے( فائدہ کے واسطے)زمین کو بچھونا بنایا اور تمھارے لئے اس میں راھیںنکالیں اور اس نے آسمان سے پانی برسایا پھر (خدا فرماتا ھے کہ )ھم ھی نے اس پانی کے ذریعہ مختلف قسموں کی گھاسیں نکالیں۔“
< اٴَمَّنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضَ وَاٴَنزَلَ لَکُمْ مِنْ السَّمَاءِ مَاءً فَاٴَنْبَتْنَا بِہِ حَدَائِقَ ذَاتَ بَہْجَةٍ مَا کَانَ لَکُمْ اٴَنْ تُنْبِتُوا شَجَرَہَا اٴَ ء ِلَہٌ مَعَ اللهِ بَلْ ہُمْ قَوْمٌ یَعْدِلُونَ>[8]
”بھلا وہ کون ھے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور تمھارے واسطے آسمان سے پانی برسایا پھر ھم ھی نے پانی سے دلچسپ اور خوشنما باغ اگائے، تمھارے تو یہ بس کی بات نہ تھی کہ تم ان سے درختوں کو اگاسکتے تو کیا خدا کے ساتھ کوئی اور بھی معبود ھے ؟ (ھر گز نھیں) بلکہ یہ لوگ خود( اپنے جی سے گڑھ کے بتوں کو)اس کے برابربناتے ھیں۔“
قارئین کرام ! نباتات کی دنیا بھی کس قدر عجیب ھے چنانچہ زمین شناسی (جیولوجی) "Geological"کے ماھرین اس بارے میں ھمیشہ بررسی وتحقیق میںمشغول ھیں کیونکہ وہ ھر روز ایک نہ ایک نئی چیز کشف کرتے ھیں۔
اورجیسا کہ ماھرین نے بیان کیا ھے کہ نباتات کی تقریباً پانچ لاکھ قسمیں ھیں اور وہ ترکیب اورتزویج اور عمر کے لحاظ سے مختلف ھیں کیونکہ انھیں نباتات میں سے وہ بھی ھیں جن کی عمر کچھ دن کی هوتی ھے اور ان میں سے بعض وہ ھیں جن کی عمر کچھ سال هوتی ھے اور ان میں سے بعض کی عمر انسان کے کئی برابر هوتی ھے۔
معمولاً نباتات وھاں پیدا هوتی ھیں جھاں پر ان کے لئے مناسب اسباب موجود هوں ، ان کے بیج طولانی مدت تک باقی رہتے ھیں کیونکہ جب تک ان کے لئے مناسب پانی اور مناسب گرمی موجود نہ هوں تب تک پیدا نھیں هوتیں، (جیسا کہ معلوم ھے کہ نباتات میں سے ھر ایک معین گرمی میں پیدا هوتی ھیں) اسی طریقہ سے ان کے لئے هوا کا بھی هونا ضروری ھے کیونکہ وہ اسی کی بدولت زندہ رہتی ھے اور اسی سے سانس لیتی ھے۔
اور جب دانہ اگنا شروع هوتا ھے، تو پھلے چھوٹی چھوٹی جڑیں پیدا هوتی ھیں اس وقت وہ اپنی غذا کو خود دانہ سے حاصل کرتا ھے یھاں تک کہ اس کی جڑیں زمین میں پھیلنا شروع هوتی ھیں اس وقت وہ اپنی غذا زمین سے حاصل کرتا ھے گویا وہ انسان اور حیوان کے بچوں کی طرح ھے کہ جب تک وہ شکم مادر میں رہتا ھے تو اس کی غذا اس کی مادر کے ذریعہ پهونچتی ھے ، اس کے بعد اس کے دودھ سے غذا پهونچتی ھے اور جب بچہ بڑا هوجاتا ھے تو پھر وہ اپنی غذا میں خود مختار هوجاتا ھے۔
قارئین کرام ! کیا ان تمام چیزوں کے ملاحظہ کرنے کے بعد کوئی یہ کہہ سکتا ھے کہ ان تمام چیزوں کو خدا کے علاوہ کسی اور نے پیدا کیا ھے؟
اور نباتات کا غذائی سسٹم،جڑوںپر منحصر هوتا ھے کیونکہ یہ جڑیں ھی غذائی سسٹم کا پھلا جز ھےں، اور جڑیں نباتات کی احتیاجات کی بنا پر مختلف هوتی ھیں، پس ان میں سے کچھ گاجر جیسی اور بعض آلو جیسی اور بعض جالی نما هوتی ھیں، جبکہ ان تمام ا ختلاف کے باوجود ایک ھی مقصد کے لئے پیدا کی گئی ھیں۔اور یہ مقصد نباتات کا اپنے لئے غذا حاصل کرنا ھے۔
اورجب یہ جڑیں رشد کرتی ھیں تو اس پر موجود چھلکا زمین سے رطوبت حاصل کرکے اس کو جڑوں کے اوپرپهونچاتا ھے، اور یھاں سے نباتات تک غذا پهونچتی ھے جس کے ذریعہ وہ رشد کرتی ھیں اور یہ بات بھی طے شدہ ھے کہ نباتات کے لئے روشنی، پانی اور دیگر ضروری عنصر کا پایا جانا ضروری هوتا ھے جیسے کاربن، "Carbon" آکسیجن، "Oxygen" فسفور "Phosphore"، ”کاربرائڈ“"Carbide" وغیرہ۔
یہ بات بھی ذہن نشین رھے کہ نباتات اپنے پتوں کے ذریعہ سانس لیتی ھیں جو ان کے پھیپھڑوں کا کام کرتے ھیں چنانچہ نباتات حیوانوں اور انسانوں کی طرح انھیں پتوں کے ذریعہ آکسیجن،"Oxygen" کو حاصل کرتی ھےں اور کاربن اکسیڈ دوم "Carbon oxide"کو نکالتی ھے،اور نباتات کے سانس لینے سے گرمی میں کمی پیدا هوتی ھے اور نباتات کا عملِ تنفس شب وروز جاری وساری رہتا ھے، مگر اس کا نتیجہ دن میں عمل کاربن کے مقابلہ میں ظاھر نھیں هوتا کیونکہ عمل کاربن کو نباتات عمل تنفس سے زیادہ جلدی انجام دیتی ھیں پس آکسیجن نکلتا رہتا ھے اور کاربن ڈائی اکسیڈ دوم"Carbon Dioxide" کو حاصل کرتا ھے۔
چنانچہ آج کے سائنس کا کہنا ھے کہ کاربن "Carbon" کا پیدا هونا ھی ،ڈائی اکسیڈ کاربن "Carbon Dioxide" کی نابودی کے لئے کافی ھے ، اگر صرف اسی چیز پر اکتفا کی گئی هوتی تو کافی تھا، لیکن خداوندعالم نے جو خالق عظیم ھے ایسی دوسری زندہ موجوات کوبھی خلق کیا جو اپنے سانس لینے میں کاربن اکسیڈ "Carbon oxide" نکالتی ھیں ، جیسا کہ مردہ جسم بھی کاربن اکسیڈ نکالتے ھیں نیز دیگر امور کی وجہ سے بھی یہ مادہ نکلتا ھے۔
چنانچہ اس کاربن اکسیڈ "Carbon oxide" کی نابودی میں کبھی کوئی کمی یا زیادتی نھیں هوتی، بلکہ قدرت اور حکمت خدا کا تقاضا یہ ھے کہ فضا میں کاربن آکسائیڈ کی نسبت دس ہزار اجزا میں سے تین یا چار هوتی ھے، اور اس نسبت کا اس مقدار میں موجود هونا کائنات کی حیات کا سبب ھے ، اور (کاربن "Carbon" اور کاربن اکسیڈ"Carbon oxide" کی عملیات) میں ابھی تک کوئی ایسا موقع نھیں آیا جب اس نسبت میں کوئی اختلاف هوا هو۔
چنانچہ بعض ماھرین کا کہنا ھے کہ اگرهوا میں آکسیجن،"Oxygen" %۲۱ کے بجائے %۵۰ هوجائے تو اس کائنات میںجو چیزیں جلنے کے قابل ھیں ان سب میں آگ لگ جائے اور بجلی کی کوئی چنگاری اگر درخت تک پهونچ جائے تو وہ تمام آگ کی نذر هوجائےں، اسی طرح اگر هوا میں آکسیجن،"Oxygen" %۱۰یا اس بھی کم هوجائے تو پھر تمام چیزوں کی زندگی خطرہ میں پڑجائے۔
تو کیا ان تمام تحقیقات کے بعد بھی کوئی انسان بے جان مادہ کوان تمام عجیب وغریب موجوات کا خالق کہہ سکتا ھے؟!!!
__________________
[1] سورہ غاشیہ آیت ۱۷۔
[2] سورہ نمل آیت ۱۸ َ
[3] سورہ نمل آیت ۸۸۔
[4] سورہ واقعہ آیت ۶۳تا ۶۵۔
[5] سورہ واقعہ آیت ۷۱تا ۷۲۔
[6] سورہ انعام آیت ۹۹۔
[7] سورہ طٰہ آیت ۵۳۔
[8] سورہ نمل آیت ۶۰۔
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma
آبی
سبز تیره
سبز روشن
قهوه ای