اس سورہ کی فضیلت

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونه جلد 27
تجھے اس قدر عطا کرے گا کہ تو خوش ہوجائے گا سورہ” الضحیٰ“کے مضامین اور اس کی فضیلت

اس سورہ کی فضیلت میں یہی بات کافی ہے کہ ایک حدیث میںپیغمبراکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے نقل ہوا ہے :
من قراٴ ھا کا ن ممن یرضاہ اللہ ، ولمحمد( ص) ان یشفع لہ ولہ عشر حسنات بعدد کل یتیم و سائل !
” جو شخص اس کی تلاوت کرے گا وہ اےسے لوگوں میں سے ہوگا جن سے خدا راضی ہو گا ، اور وہ اس لائق ہوگا کہ محمد اس کی شفاعت کریں اور ہر یتیم اور سوال کرنے والے مسکین کے برابر دس حسنات اس کے لئے ہوں گے ۔ ۱
اور یہ سب فضائل اس کے لئے ہیں جو اسے پڑھے اور اس پر عمل کرے۔
قابل توجہ بات یہ ہے کہ متعدد روایات کے مطابق یہ سورہ اور اس کے بعد والا سورہ ( ( سورہٴ الم نشرح) ایک ہی سورہ ہیں اور چونکہ ہر رکعت میں الحمد کے بعد ایک مکمل سورہ پڑھنا چاہئیے، لہٰذا ان دونوں سورتوں کو اکٹھا ملا کر پڑھنا چاہئیے، ( یہی بات ”سورہٴ فیل “اور” لایلاف“کے بارے میں کہی گئی ہے)۔
اور اگر ہم صحیح طور پر ان دونوں سورتوں کے مطالب میں غور کریں تو ہم دیکھیں گے کہ ان دونوں کے مطالب ایک دوسرے سے اتنے ہی ملتے جلتے ہیں کہ یقینی طو رپر ایک دوسرے کے ساتھ تسلسل قائم ہے اگر چہ ان دونوںکے درمیان ” بسم اللہ “ کا فاصلہ ہے ۔
اس بارے میں کہ کیا یہ دونوں سورتیں ہر لحاظ سے ایک ہی ہیں ؟ یا انہیں خصوصیت کے ساتھ نماز میں ایک سورے کے حکم میں شمار کرنا چاہئیے؟ اس میں اختلاف ہے ، جس کی تفصیل کا فقہ کی کتابوں میں ( قراٴتِ نما ز کی بحث میں ) مطالعہ کرنا چاہئیے ، لیکن بہرحال علماء کا اجماع اس بات پر ہے کہ قراٴتِ نماز میں ان میں سے ایک سورہ پر قناعت نہیں کرنا چاہیئے۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
۱۔ و الضحٰی ۔ ۲۔ و الّیل اذا سجٰی ۔ ۳۔ ماودّعک ربک و ما قلیٰ۔ ۴۔ و للاٰخرة خیر لک من الاولیٰ ۔
۵۔ ولسوف یعطیک ربک فترضیٰ ۔
ترجمہ
شروع اللہ کے نام سے جو رحمن و رحیم ہے
۱۔ قسم ہے دن کی جب کہ سورج نکل آئے ( اور ہر جگہ کو گھیر لے )۔
۲۔ اور قسم ہے رات کی جب کہ وہ ساکن ہوجائے ۔
۳۔ کہ ہر گز نہ تو خدا نے تجھے چھوڑا ہے او رنہ ہی تجھ سے غصہ ہوا ہے۔
۴۔ اور یقینی طور تیرے لئے آخرت دنیا سے بہتر ہے ۔
۵۔ اور عنقریب تیرا رب تجھے اس قدر دے گا کہ تو راضی ہو جائے گا۔
شان نزول
اس سورہ کے شان نزول کے بارے میں بہت زیادہ روایات نقل ہوئی ہیں ، جن میں سب سے زیادہ واضح ذیل کی روایت ہے ۔
”ابن عباس ۻ“ کہتے ہیں : پندرہ دن گزر گئے اور پیغمبر پر وحی نازل نہ ہوئی۔ مشرکین نے کہا: محمد( صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) کے پر وردگار نے اسے چھوڑدیا ہے اور اس کا دشمن ہو گیا ہے ۔ اگر اس کی یہ بات سچ ہے کہ اس کی ماموریت خدا کی جانب سے ہے تو پھر اس پرمسلسل وحی نازل ہوتی ۔ اس موقع پر اوپروالی سورت نازل ہو ئی ( اور اس کی باتوں کا جواب دیا)۔
قابل توجہ بات یہ ہے کہ ایک حدیث کے مطابق یہ سورہ نازل ہواتو پیغمبر نے جبرئیل سے فرمایا:
” تونے دیر لگادی حالانکہ میں شدت سے تیرا مشتاق تھا “، تو جبرئیل نے کہا : و انا کنت اشد الیک شوقا:“ میں تو خود آپ کا مشتاق تھا ، لیکن میں بندہٴ مامور ہوں اور پروردگار کی حکم کے بغیر نازل نہیں ہوتا“۔
ایک اور حدیث میں آیا ہے کہ یہودیوں کی ایک جماعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت اقدس میں آئی اور” ذی القرنین “ و ” اصحابِ کہف“ اور” روح “ کی خلقت کے بارے میں سوال کیا: پیغمبر نے فرمایا:
” میں کل بتاوٴں گا “ ، اور انشاء اللہ نہ کہا ، لہٰذا اسی وجہ سے وحی الٰہی کئی دن تک منقطع رہی “ اور دشمنوں کی زبان ِ شماتت سے کھل گئی،اور اس بناء پر پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم غمگین ہوگئے ، تو یہ سورہ نازل ہوا تاکہ پیغمبر کے دل کی تسلی کاباعث ہو(لیکن شان نزول بعید نظر آتی ہے ، کیونکہ یہودیوں کا پیغمبر سے آکر ملنا اور اس قسم کے سوالات کرنا عام طور پر مدینہ میں تھا نہ کہ مکہ میں )۔
بعض روایات میں یہ بھی آیا ہے کہ مسلمانوں کی ایک جماعت نے عرض کیا، اے رسول ِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ پر وحی کیوں نازل نہیں ہوتی ؟ آپ نے فرمایا: ” کیف ینزل علیّ الوحی و انتم لاتنقون براجمکم و التقلمون اظفارکم
” مجھ پر وحی کیسے نازل ہو جب کہ تم اپنی انگلیوں کے جوڑوں کو پاک وصاف نہیں رکھتے ، اور ناخن نہیںکترواتے!؟ 2
اس بارے میں کہ انقطاع وحی کی مدت کس قدر تھی ؟ مختلف روایات ہیں ۔ بعض نے بارہ دن ، بعض نے پندرہ دن ، بعض نے پچیس دن اور بعض نے چالیس دن تک نقل کئے ہیں ، اور ایک روایت میں صرف دو تین شب و روز بھی نقل ہوئے ہیں ۔


 

۱۔ ” مجمع البیان “ جلد ۱۰ ص ۵۰۳۔
2۔ ” مجمع البیان “ جلد۱۰ ص ۵۰۴، ( تھوڑی سی تلخیص اور اقتباس کے ساتھ )۔

تجھے اس قدر عطا کرے گا کہ تو خوش ہوجائے گا سورہ” الضحیٰ“کے مضامین اور اس کی فضیلت
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma