سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 

عورتوں کے کھیل کا شرعی حکم [عورتوں کی ورزش]

سوال: مہربانی فرماکر عورتوں کے کھیل کے سلسلے میں نیچے دیئے گئے سوالوں کے جواب عنیات فرمائیں:
۱۔ ابتدائی مدارس کی لڑکیوں کے لئے حجاب اسلامی کے بغیر ورزش کرنے کا کیا حکم ہے؟
۲۔ عورتوں کا اسلامی حجاب کے ساتھ عمومی جگہوں پر جہاں ان کوسب دیکھ رہے ہوں، ورزش کرنے کا کیا حکم ہے؟
۳۔ انفرادی اور ایسا کھیل جس میں ایک دوسرے کا بدن کونہیں چھُوایا جاتا ہے جیسے (ٹینس، بیڈ منٹن وغیرہ) عورتوں کا مردوں کے ساتھ کھیلنے کا کیا حکم ہے؟
۴۔ کیا اس ہال کے اندر جو عورتوں کے کھیل سے مخصوص ہے عورتوں کا حجاب میں رہنا ضروری ہے؟
۵۔ عورتوں کا پورے اسلامی پردے کے ساتھ سڑکوں اور عمومی راستوں پر سائیکل یا موٹر سائیکل چلانے کا کیا حکم ہے؟
۶۔ کیا سن بلوغ سے پہلے لڑکے اور لڑکیوں کا آپس میں کھیلنا جائز ہے؟
۷۔ مردوں کا عورتوں کے لئے کھیل کا مربّی (کوچ) بننا کس حد تک جائز ہے؟
۸۔ نامحرم کی غیرموجودگی میں عورتوں کا کھیل میں اُچھل کود کرنا (کہ جس میں بدن کے حصّے حرکت میں آتے ہیں) کیسا ہے؟
۹۔ عورتوں کا اپنے محرموں کے ساتھ کھیلنے کا کیا حکم ہے؟
۱۰۔ عورتوں کا مردوں کے کھیل دیکھنے کی حد کہاں تک ہے؟
جواب دیدیا گیا: ایک سے ۱۰ تک: اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ورزش ہر سنّ کے افراد چاہے وہ مرد ہو یا عورت، بوڑھے ہو ںیا جوان، کی صحت سلامتی وسلامتی کی حفاظت کے لئے بہت ضروری کاموں میں شمار ہوتی ہے، اس کے علاوہ ورزش صحیح وسالم سرگرمی کے لئے بہت سے خالی اوقات کو بھرسکتی ہے اور انسان کو غیر سالم سرگرمیوں سے باز رکھ سکتی ہے، لیکن یہ بات بھی مسلّم ہے کہ عورتوں اور مردوں کی شرعی پابندیوں کا خیال رکھا جائے، اور ورزشی مقابلہ اس چیز کے مجوّز نہیں سکتے ہیں ہم اپنی تہذیب اپنے کلچر کو چھوڑکر اغیار کی تہذیب کو اپنالیں، عام طور سے عورتیں ایسی جگہوں پر جو فقط عورتوں سے مخصوص ہیں مناسب لباس کے ساتھ پردے میں یا بغیر شرعی پردے کے، اس چیز کا خیال رکھتے ہوئے کہ جنس مخالف وہاں پر نہ ہو کھیل کود کرسکتی ہیں، ان کے مربّی اور ریفری بھی عورتوں میںسے چنے جائیں، جیسا کہ مردوں کے سلسلے میں بھی ایسا ہی ہے اور انھیں اسے کھیل کھینا چاہیے جن سے ان کے جسموں کو نقصان نہ پہنچے ۔

بند جگہ پر ورزش کا لباس پہننا [عورتوں کی ورزش]

سوال: خواتین کی مخصوص ورزش گاہوں میں جہاں کوئی مرد موجود نہیں ہوتا، دوسری عورتوں کے سامنے خواتین کیلئے ایسا لباس پہنّا جس میں فقط تن ڈھکتا ہے کیسا ہے ؟
جواب دیدیا گیا: جواب:۔ مسئلہ کے فرض میں کوئی ممانعت نہیں ہے مگر ان موارد میں کہ جہاں ایسا کرنے سے خاص گناہ ظاہر ہو .
کل صفحات : 1